کاروار:19/اپریل (ایس او نیوز)جموں کے کٹھوعہ میں خانہ بدوش قبیلہ کی 8سالہ کمسن معصوم بچی کی وحشیانہ آبروریزی اور قتل اور اسی طرح اترپردیش کے اُناؤ میں خاتون کی اجتماعی عصمت دری کی کڑی مذمت کرتےہوئے متاثرین سے انصاف کرنے اورجمہوری نظام میں عوام کا اعتماد بحال رکھنے کےلئے ضروری اقدامات کا مطالبہ لے کر اترکنڑا ضلع رابطہ ملت کی طرف سے اترکنڑا ڈپٹی کمشنر کی معرفت صدرہند کے نام میمورنڈم پیش کیا گیا۔
اترکنڑا رابطہ ملت کے ضلعی عہدیداران کے ایک وفد نے کاروار ڈی سی دفتر پہنچ کر ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں میمورنڈم سونپا۔ میمورنڈم میں فرقہ پرست سیاسی مافیا اور سکیورٹی افسران پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جموں میں سیاسی فرقہ پرستوں کے ساتھ چند پولس افسران کا 8 سالہ معصوم بچی کی عصمت دری پھر اس کے قتل نے ملک بھر کے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے پورا ملک سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے۔ کمسن بچی کو اغواء کرکے مندر میں لے جا کر اجتماعی طورپر آبروریزی کے بعد اس کو قتل کیاجانا ، ملزموں کی اخلاقی زوال اور دوسروں سے نفرت کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح اناؤ میں اقتدار کے نشہ میں دھت عوامی نمائندے اور اس کے چیلوں کاخاتون کی عزت لوٹنا ، پولس تھانے میں شکایت درج کرنے پر متاثرہ کے والد کو کسٹڈیل موت ثابت کرتی ہے کہ اقتدار پر قابض پارٹی اور سرکاری انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنےکے لئے کافی ہے۔
عوامی نمائندوں کا جرائم معاملات میں ملوث ہونااور ان کے دفاع میں کھڑے ہونے سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس لگی ہے۔ ملک کے عوام عزت مآب صدر ہند سے تمام متاثرین سے انصاف کا مطالبہ کرتےہیں اور شفافیت کے ساتھ جانچ کی مانگ کرتے ہیں۔ تاکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد بحال رہے۔
اس موقع پر اترکنڑا رابطہ ملت کے صدر وکیل عظیم الدین مجاور، جنرل سکریٹری محمد طلحہ سدی باپا،محمد عرفان ، مظفر، عبدالمنان، محمد اشفاق ، محی الدین ، خلیل اللہ خان ، محمد اقبال ، عبداللہ دامودی ، محمد یونس رکن الدین، عبدالجبار اسدی سمیت ضلع بھر سے مختلف عہدیداران اور ذمہ داران موجود تھے۔
